زلزلے کے بعد لاپتہ افراد جن کے لواحقین کو ابھی تک ان کے بچ جانے کی امید ہے

Oct 08, 2015, 09:53 AM

Subscribe

آٹھ اکتوبر کو زلزلے کے فوراً بعد جب اس کی شدت کا اندازہ ہوا تو جیسے قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔ سکول، طبی سہولیات، سڑکیں، پل، رابطے کے ذرائع سب ٹوٹ چکے تهے۔ اس وقت متاثرە علاقوں میں افرا تفری مچی ہوئی تهی۔ ان ہنگامی حالات میں، سینکڑوں ایسے بچے اور افراد تهے جو لاپتە ہو گئے۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کے اعدادوشمار کے مطابق، مظفر آباد، باغ، پونچه، کوٹلی، مانسہرە، بٹگرام اور گجرات کے اضلاع سے پانچ سو سے زیادە افراد کے گمشدە ہونے کی اطلاعات تهیں۔ دس سال بعد، دو سو اٹهائیس افراد اب بهی لاپتہ ہیں۔ جن میں سے کئی کے والدین نے ابھی تک امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ہے۔ مظفر آباد سے عنبر شمسی کی رپورٹ

انٹرنیشنل کمٹی آف دی ریڈ کراس کے اعدادوشمار کے مطابق، مظفر آباد، باغ، پونچه، کوٹلی، مانسەرە، بٹگرام اور گجرات کے اضلع سے پانچ سو سے زیادە افراد کے گمشدە ەونے کی اطلاعات تهیں۔ دس سال بعد، دو سو اٹهائیس افراد اب بهی گمے ەوئے ەیں۔
والدین نے لیکن امید کا دامن نەیں چهوڑا۔ مظفر آباد سے عنبر شمسی کی رپورٹ